Pakistan Federal Budget 2026-27: IMF Demands, Tax Cuts & What Changes for YOU

پاکستان بجٹ 2026-27 ملک کی اقتصادی تاریخ کا ایک اہم ترین موڑ ثابت ہونے والا ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب جون 2026 کے پہلے ہفتے میں یہ بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کریں گے۔ ایک طرف لاکھوں تنخواہ دار پاکستانی ٹیکس میں ریلیف کے منتظر ہیں، دوسری طرف IMF نے Rs. 15.3 ٹریلین کا سخت ٹیکس ہدف لگایا ہوا ہے۔ کیا حکومت عوام کو راحت دے پائے گی؟ کیا IMF کی شرائط آپ کی جیب پر مزید بوجھ ڈالیں گی؟ آج اس مکمل رہنما میں جانیے بجٹ 2026-27 کی ہر اہم تفصیل — سادہ اردو میں، بغیر کسی الجھن کے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

صرف ایک کلک، اور ہر اہم خبر سب سے پہلے آپ کے موبائل پر

ابھی جوائن کریں

بجٹ 2026-27 کیا ہے؟ ایک سادہ تعارف

ہر سال جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال کے لیے حکومت ایک مالیاتی منصوبہ پیش کرتی ہے جسے “وفاقی بجٹ” کہتے ہیں۔ اس بجٹ میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ:

  • ملک کتنی آمدنی حاصل کرے گا (ٹیکس اور غیر ٹیکس ذرائع سے)
  • سرکاری اخراجات کس مد میں کتنے ہوں گے
  • کن شعبوں کو ٹیکس میں چھوٹ ملے گی
  • کن افراد یا اداروں پر نئے ٹیکس لگیں گے

بجٹ 2026-27 خاص طور پر اس لیے اہم ہے کیونکہ پاکستان IMF کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے Extended Fund Facility پروگرام میں ہے اور ہر فیصلہ IMF کی منظوری کے بعد ہوگا۔

بجٹ کس کے لیے اہم ہے؟

بجٹ 2026-27 کا اثر ان تمام لوگوں پر پڑے گا جو:

  • سرکاری یا نجی نوکری کرتے ہیں
  • کاروبار چلاتے ہیں
  • جائیداد خریدتے یا بیچتے ہیں
  • بجلی اور گیس استعمال کرتے ہیں
  • یا صرف پاکستان میں رہتے ہیں — یعنی ہر شہری!

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

Pakistan Federal Budget 2026-27: IMF Demands, Tax Cuts & What Changes for YOU

بجٹ 2026-27 کب پیش ہوگا؟ تاریخ اور پس منظر

وفاقی بجٹ 2026-27 جون 2026 کے پہلے ہفتے میں قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔ روایتی طور پر پاکستان کا مالی سال یکم جولائی سے شروع ہوتا ہے، اس لیے بجٹ ہمیشہ جون میں پیش کیا جاتا ہے۔

اس وقت IMF کی ٹیم اسلام آباد میں موجود ہے اور بجٹ کی حتمی شکل طے کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ IMF مشن 13 مئی 2026 کو پہنچا اور ایک ہفتے تک ٹیکس اقدامات پر گفتگو کی۔ بعد میں 18 مئی کے ہفتے سے مزید ملاقاتیں طے ہیں۔

بجٹ کی تیاری کا عمل کیسے ہوتا ہے؟

  1. وزارت خزانہ تمام سرکاری محکموں سے مطالبات اکٹھے کرتی ہے
  2. FBR (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) ٹیکس ہدف طے کرتا ہے
  3. IMF سے مشاورت ہوتی ہے اور اُن کی شرائط کو شامل کیا جاتا ہے
  4. کاروباری اداروں، چیمبرز اور ماہرین سے تجاویز لی جاتی ہیں
  5. بجٹ کو کابینہ منظور کرتی ہے، پھر قومی اسمبلی میں پیش کیا جاتا ہے

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں ریلیف — اصل صورتحال

یہ وہ خبر ہے جو لاکھوں ملازمین کے دل میں امید جگاتی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا ہے کہ وہ تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرحیں کم کرنے کے حق میں ہیں اور اگر ممکن ہو تو قابل ٹیکس آمدنی کی حد بھی بڑھائی جائے۔

اس کے پیچھے سوچ یہ ہے کہ تنخواہ دار طبقہ ملک کی ٹیکس وصولی میں سب سے بڑا حصہ ڈالتا ہے، جبکہ ریٹیل، ہول سیل، ایکسپورٹ اور رئیل اسٹیٹ جیسے شعبے اپنے حصے کا ٹیکس ادا نہیں کرتے۔

تنخواہ میں اضافے کی بجائے ٹیکس میں کمی — کیوں؟

حکومت اس بار تنخواہوں اور پنشن میں اضافے سے گریز کر کے اس رقم کو ٹیکس ریلیف کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ وجہ سادہ ہے:

  • تنخواہ بڑھنے سے ملازم اکثر اونچے ٹیکس سلیب میں چلا جاتا ہے
  • نتیجے میں ہاتھ میں آنے والی رقم اتنی نہیں بڑھتی
  • خاص طور پر سرکاری ملازمین کو اس سے نقصان ہوتا ہے
  • ٹیکس کم کرنے سے ہر ملازم کو براہ راست فائدہ ملتا ہے

البتہ PSDP (پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام) ملازمین کی تنخواہوں میں 20 سے 35 فیصد اضافہ پہلے ہی منظور ہو چکا ہے جو یکم جولائی 2026 سے نافذ ہوگا۔

OICCI کی تجاویز — کیا مانی جائیں گی؟

Overseas Chamber of Commerce and Industry نے حکومت کو یہ تجاویز دی ہیں:

  • انکم ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح 25% تک محدود کی جائے
  • زیادہ آمدنی والوں پر 10% سرچارج ختم کیا جائے
  • کارپوریٹ ٹیکس 28% کیا جائے اور پھر 3 سال میں 25% تک لایا جائے
  • سپر ٹیکس کو مرحلہ وار ختم کیا جائے
See also  How to Apply Green Property Certificate | Step by Step Urdu Guide 2026

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

IMF کیا چاہتا ہے؟ پاکستان پر شرائط کا مکمل جائزہ

بجٹ 2026-27 کی سب سے بڑی رکاوٹ IMF ہے۔ پاکستان نے IMF سے 7 ارب ڈالر کا Extended Fund Facility لیا ہوا ہے اور اس کے بدلے میں سخت مالی نظم و ضبط کا وعدہ کیا ہے۔

Pakistan Federal Budget 2026-27: IMF Demands, Tax Cuts & What Changes for YOU

IMF کی اہم شرائط یہ ہیں:

  • مجموعی مالی خسارہ GDP کے 3.5 فیصد تک رکھنا ہوگا
  • پرائمری بجٹ سرپلس Rs. 2.8 ٹریلین برقرار رکھنا ہوگا
  • سرکاری اخراجات میں اضافہ متوقع مہنگائی (8.4%) سے زیادہ نہیں ہوگا
  • ٹیکس سے GDP کا تناسب 0.3 فیصد بڑھا کر 11% کرنا ہوگا
  • اگر کسی شعبے کو ٹیکس ریلیف دی گئی تو دوسری جگہ سے اتنا ٹیکس بڑھانا ہوگا

IMF کیا نئے ٹیکس مانگ رہا ہے؟

IMF نے Rs. 230 ارب کے نئے ٹیکس اقدامات لازمی قرار دیے ہیں جن میں شامل ہیں:

  • پیٹرول پر سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرنا
  • نئے تعمیر شدہ مکانوں پر سیلز ٹیکس نافذ کرنا
  • سولر پینل صارفین پر ٹیکس
  • سیلز ٹیکس چھوٹ میں مزید کمی

پاکستانی حکام نے ان کچھ تجاویز کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے، خاص طور پر پیٹرول پر GST کے بارے میں، کیونکہ اس کا بوجھ صوبوں کے ساتھ بٹتا ہے۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

FBR کا ٹیکس ہدف — Rs. 15.3 ٹریلین کا بڑا چیلنج

FBR کے لیے بجٹ 2026-27 میں ٹیکس ہدف ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اس وقت مختلف اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں:

  • IMF نے Rs. 15.564 ٹریلین کا ہدف تجویز کیا ہے
  • Express Tribune کے ذرائع کے مطابق آخری ہدف Rs. 15.3 ٹریلین کے قریب ہوگا
  • خود FBR حکام Rs. 15.232 ٹریلین سے زیادہ ممکن نہیں سمجھتے
  • رواں مالی سال 2025-26 کا ہدف Rs. 13.45 ٹریلین تک گھٹایا گیا

FBR کی مشکلات کیا ہیں؟

رواں سال FBR کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے:

  • پہلے 8 مہینوں میں Rs. 428 ارب کی ریونیو شارٹ فال
  • مجموعی ٹیکس وصولی GDP کا صرف 10.6% متوقع (ہدف 11% تھا)
  • گزشتہ سال FBR نے Rs. 11.735 ٹریلین اکٹھا کیا جبکہ ہدف Rs. 12.3 ٹریلین تھا
  • ٹیکس نیٹ میں توسیع سست روی کا شکار

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

نئے ٹیکس سلیب 2026-27 — متوقع تبدیلیاں

اگرچہ حتمی ٹیکس سلیب بجٹ پیش ہونے پر معلوم ہوں گے، لیکن موجودہ اشارے کچھ یوں ہیں:

موجودہ ٹیکس سلیب (2025-26) یاد دہانی کے لیے:

  • سالانہ آمدنی Rs. 6 لاکھ تک — ٹیکس صفر
  • Rs. 6 لاکھ تا Rs. 12 لاکھ — 5%
  • Rs. 12 لاکھ تا Rs. 22 لاکھ — 15%
  • Rs. 22 لاکھ سے اوپر — 25% یا زیادہ

بجٹ 2026-27 میں متوقع تبدیلیاں:

  • ٹیکس فری حد Rs. 10 لاکھ سالانہ تک بڑھ سکتی ہے
  • درمیانی آمدنی والوں کے لیے شرح میں واضح کمی
  • اوپری سلیب میں بھی کچھ ریلیف ممکن
  • 10% سرچارج ختم ہو سکتا ہے

تنخواہ دار بمقابلہ کاروباری — ٹیکس میں فرق

ایک سنگین ناانصافی جو بجٹ 2026-27 میں بھی شاید جاری رہے:

  • تنخواہ دار شخص پر زیادہ سے زیادہ 35-40% ٹیکس
  • کاروباری شخص اکثر ٹیکس نیٹ سے باہر یا بہت کم ٹیکس
  • OICCI اور دیگر ادارے اس عدم مساوات پر احتجاج کرتے رہتے ہیں
  • IMF بھی چاہتا ہے کہ ریٹیل اور ہول سیل کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

سپر ٹیکس اور کارپوریٹ ٹیکس — صنعتی شعبے پر اثرات

بڑی صنعتوں اور کارپوریٹ اداروں کے لیے سپر ٹیکس ایک بڑا درد سر بنا ہوا ہے۔

موجودہ صورتحال:

  • کارپوریٹ ٹیکس + سپر ٹیکس + WWF + WPPF ملا کر مؤثر شرح 46% تک پہنچ جاتی ہے
  • یہ خطے میں سب سے زیادہ ٹیکس کی شرحوں میں سے ایک ہے
  • اس سے سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے

بجٹ 2026-27 میں ممکنہ تبدیلیاں:

  • سپر ٹیکس ختم یا کم کیا جا سکتا ہے
  • کارپوریٹ ٹیکس 28% کیا جائے — مرحلہ وار 25% تک
  • لیکن IMF کی منظوری کے بغیر یہ ممکن نہیں
See also  Helpline 1000 کیا ہے اور یہ رمضان میں کیسے مدد کرتا ہے؟

بینکنگ سیکٹر پر ٹیکس کا بوجھ

بینکوں پر بھی زیادہ ٹیکس ایک بڑا مسئلہ ہے:

  • اس سے قرضے مہنگے ہوتے ہیں
  • کاروباری سرمائے کی لاگت بڑھتی ہے
  • چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو سب سے زیادہ نقصان
  • OICCI نے اس معاملے پر بھی تشویش ظاہر کی ہے

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

تاجروں کے لیے نئی اسکیم — 1 فیصد ٹرن اوور ٹیکس

حکومت چھوٹے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ایک سادہ اسکیم متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے:

اسکیم کی تفصیل:

  • سالانہ فروخت Rs. 30 کروڑ تک کے تاجروں کے لیے
  • ٹیکس = سالانہ ٹرن اوور کا 1%
  • پوائنٹ آف سیل رجسٹریشن سے استثنیٰ
  • صرف ایک صفحے کا ٹیکس ریٹرن
  • گزشتہ سال سے کم ٹیکس نہیں ہوگا

کیا یہ اسکیم کامیاب ہوگی؟

ماضی میں ایسی اسکیمیں زیادہ کامیاب نہیں رہیں کیونکہ:

  • تاجروں کو ٹیکس کلچر میں لانا مشکل رہا ہے
  • FBR کے نظام پر اعتماد کم ہے
  • ہراسانی کا خوف اب بھی موجود ہے

لیکن اس بار IMF کی نگرانی اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے پھیلاؤ سے شاید نتائج مختلف ہوں۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

بجلی کے بلوں اور پیٹرول پر کیا اثرات ہوں گے؟

یہ وہ موضوع ہے جو عام آدمی کو سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔

بجلی:

  • بجلی سبسڈی Rs. 890 ارب تک محدود رہ سکتی ہے
  • IMF نے سبسڈی مزید گھٹانے یا مکمل ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے
  • OGRA پہلے ہی گیس کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا اشارہ دے چکی ہے
  • Uniform Tariff پالیسی پر نظرثانی ممکن

پیٹرول:

  • پیٹرول پر سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا IMF مطالبہ
  • حکومت اس پر مزاحمت کر رہی ہے
  • پیٹرولیم لیوی (ابھی تقریباً Rs. 106 فی لیٹر) برقرار رہنے کی توقع
  • پیٹرول کی قیمتیں ہفتہ وار جائزے کی بنیاد پر

عام گھرانے پر بجٹ کا کیا اثر ہوگا؟

ایک اوسط پاکستانی خاندان کے لیے:

  • تنخواہ دار فرد کو ٹیکس ریلیف مل سکتی ہے (مثبت)
  • بجلی اور گیس کے بل بڑھ سکتے ہیں (منفی)
  • غریب طبقے کو BISP امداد جاری رہے گی
  • مہنگائی 8.4% متوقع — خریداری کی طاقت متاثر

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

بجٹ 2026-27 بمقابلہ بجٹ 2025-26 — کیا فرق ہے؟

موضوعبجٹ 2025-26بجٹ 2026-27 (متوقع)
کل حجمRs. 17.6 ٹریلینتاحال طے نہیں
FBR ہدفRs. 14.1 ٹریلینRs. 15.3 ٹریلین
ٹیکس فری حدRs. 6 لاکھRs. 8-10 لاکھ ممکن
سپر ٹیکسنافذکمی یا خاتمہ ممکن
تنخواہوں میں اضافہ15-20%کم یا صفر، ٹیکس ریلیف ترجیح
PSDPRs. 1.1 ٹریلیناضافہ متوقع
IMF پروگرامفعالتیسرا جائزہ مکمل

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

BISP اور غریب طبقے کا بجٹ 2026-27 میں کیا ہوگا؟

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کو IMF کی سپورٹ حاصل ہے اور اسے جاری رکھنا حکومت کی ترجیح ہے۔

  • BISP وظائف میں اضافہ ممکن (مہنگائی کے تناسب سے)
  • سماجی تحفظ کے پروگرام پر اخراجات برقرار رہیں گے
  • غذائی سبسڈی کے مخصوص پروگرام جاری
  • IMF بھی سماجی تحفظ کو ٹرگٹڈ انداز میں دینے پر زور دیتا ہے

غریب اور کمزور طبقات کے لیے خدشات

  • بجلی سبسڈی گھٹنے سے غریب بھی متاثر ہوتے ہیں
  • مہنگائی میں کمی نہ آئی تو اصل خریداری کم ہوگی
  • نئے ٹیکس اقدامات بالآخر اشیاء کی قیمتیں بڑھا سکتے ہیں

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

پاکستان بجٹ 2026-27 کے فوائد کیا ہیں؟

اگر بجٹ صحیح سمت میں گیا تو:

  • لاکھوں تنخواہ دار افراد کی جیب میں زیادہ رقم بچے گی
  • کاروباری ماحول بہتر ہوگا
  • سرمایہ کاری بڑھے گی
  • IMF پروگرام کی بدولت زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رہیں گے
  • Export-led growth کا ہدف حاصل ہو سکتا ہے

بجٹ 2026-27 کیسے کام کرتا ہے؟

بجٹ کا عمل:

  1. آمدنی: FBR ٹیکس جمع کرتا ہے + غیر ٹیکس آمدنی (بندرگاہیں، SOEs وغیرہ)
  2. اخراجات: دفاع، تعلیم، صحت، PSDP، قرضوں کی اقساط
  3. فرق: اگر اخراجات زیادہ تو خسارہ — قرض لیا جاتا ہے
  4. IMF کا کردار: خسارہ GDP کے 3.5% سے زیادہ نہ ہو

بجٹ 2026-27 اور ماضی کے بجٹ میں فرق

ماضی میں بجٹ اکثر عوامی نعروں تک محدود رہتے تھے۔ بجٹ 2026-27 میں پہلی بار:

  • IMF نگرانی اتنی سخت ہے
  • ٹیکس نیٹ میں توسیع پر عملی قدم اٹھائے جا رہے ہیں
  • ڈیجیٹل ٹیکس نظام پر زور
  • پری فلڈ ٹیکس ریٹرن کا امکان
See also  رمضان میں سرکاری دفاتر کے اوقات کار 2026 (Official Notification)

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

اپنے آپ کو بجٹ 2026-27 کے لیے کیسے تیار کریں؟

چاہے آپ ملازم ہوں، کاروباری ہوں یا گھریلو بجٹ سنبھالنے والے — کچھ اقدامات آج ہی کریں:

تنخواہ دار افراد کے لیے:

  • اپنا NTN نمبر بنوائیں اگر نہیں ہے
  • ٹیکس ریٹرن فائل کریں — فائلر بننے سے فائدہ ملتا ہے
  • نئے ٹیکس سلیب کا انتظار کریں اور حساب لگائیں

کاروباری افراد کے لیے:

  • اپنا سالانہ ٹرن اوور ریکارڈ کریں
  • ٹیکس ایڈوائزر سے مشورہ لیں
  • نئی ٹریڈرز اسکیم میں شامل ہونے کا پلان بنائیں

سب کے لیے:

  • بجٹ اعلان کے بعد فوری FBR ویب سائٹ (www.fbr.gov.pk) دیکھیں
  • پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں پر نظر رکھیں
  • بچت اور سرمایہ کاری منصوبے پر نظرثانی کریں

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

FAQ — اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال 1 — پاکستان بجٹ 2026-27 کب پیش ہوگا؟

جواب: پاکستان کا وفاقی بجٹ 2026-27 جون 2026 کے پہلے ہفتے میں قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔ بجٹ کی حتمی تاریخ IMF مذاکرات کے بعد طے ہوگی۔ پاکستان کا مالی سال یکم جولائی سے شروع ہوتا ہے اس لیے بجٹ ہمیشہ جون میں آتا ہے۔

سوال 2 — کیا بجٹ 2026-27 میں تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف ملے گی؟

جواب: ہاں، بہت زیادہ امکان ہے کہ تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرحوں میں کمی کی جائے گی، خاص طور پر درمیانی آمدنی والوں کے لیے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اس ریلیف کے حامی ہیں۔ البتہ آخری فیصلہ IMF کے ساتھ مذاکرات کے بعد ہوگا۔

سوال 3 — FBR کا ٹیکس ہدف 2026-27 میں کتنا ہوگا؟

جواب: مختلف رپورٹس کے مطابق FBR کا ٹیکس ہدف Rs. 15.3 سے Rs. 15.564 ٹریلین کے درمیان ہوگا۔ IMF نے Rs. 15.564 ٹریلین تجویز کیا ہے جبکہ پاکستانی حکام Rs. 15.232 ٹریلین سے زیادہ ممکن نہیں سمجھتے۔ حتمی ہدف مذاکرات کے بعد طے ہوگا۔

سوال 4 — کیا بجٹ 2026-27 میں سپر ٹیکس ختم ہوگا؟

جواب: سپر ٹیکس ختم یا کم کیے جانے کی خبریں آ رہی ہیں اور حکومت اس کے حق میں ہے۔ لیکن IMF نے شرط رکھی ہے کہ اگر کسی جگہ ٹیکس کم کیا گیا تو دوسری جگہ سے اتنا ٹیکس بڑھانا ہوگا۔ ابھی حتمی فیصلہ باقی ہے۔

سوال 5 — بجٹ 2026-27 سے بجلی کے بل مزید بڑھیں گے؟

جواب: بجلی سبسڈی میں کمی کا خطرہ موجود ہے کیونکہ IMF نے سبسڈی گھٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ بجلی کی سبسڈی Rs. 890 ارب تک محدود ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بجلی کے بل مزید بڑھ سکتے ہیں، خاص طور پر غیر سبسڈی والے صارفین کے لیے۔

سوال 6 — تاجروں کے لیے بجٹ 2026-27 میں کیا نیا ہے؟

جواب: چھوٹے تاجروں کے لیے ایک نئی آسان ٹیکس اسکیم آ رہی ہے جس میں سالانہ فروخت کا صرف 1% ٹیکس ہوگا، صرف ایک صفحے کا ریٹرن ہوگا اور پوائنٹ آف سیل سے استثنیٰ ملے گا۔ یہ سہولت Rs. 30 کروڑ تک کے سالانہ کاروبار والوں کے لیے ہوگی۔

سوال 7 — بجٹ 2026-27 میں BISP وظائف بڑھیں گے؟

جواب: امید ہے کہ BISP وظائف میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ ہوگا کیونکہ IMF اور حکومت دونوں سماجی تحفظ کے پروگرام کو جاری رکھنے کے حامی ہیں۔ حتمی اعلان بجٹ تقریر میں ہوگا۔

━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━━

اختتامیہ — آخری بات

بجٹ 2026-27 پاکستان کے لیے ایک نازک امتحان ہے۔ ایک طرف کروڑوں شہری ٹیکس میں ریلیف، سستی بجلی اور بہتر زندگی کے خواہاں ہیں، دوسری طرف IMF کی سخت شرائط اور FBR کے بڑے ٹیکس ہدف ہیں۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو ان دونوں کے درمیان توازن قائم کرنا ہے — اور یہ آسان کام نہیں۔ لیکن اگر حکومت ریٹیل، ہول سیل اور زراعت کو ٹیکس نیٹ میں لا سکی تو تنخواہ دار طبقے کو حقیقی ریلیف ممکن ہے۔

بجٹ پیش ہونے کے بعد ہم آپ کو تمام تفصیلات فوری طور پر فراہم کریں گے۔ ہمارے ساتھ جڑے رہیں!

Leave a Comment