پنجاب میں PERA (پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی) کے اہلکاروں کے خلاف بدعنوانی اور عوام کو ہراساں کرنے کی شکایات کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فوری اور سخت ایکشن لینے کا حکم دے دیا ہے۔ 30 جون 2026 کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے جس تک تمام فیلڈ اہلکاروں کو باڈی کیمرے پہنانا لازمی ہوگا۔ بدعنوان اہلکاروں کو تین سال قید تک کی سزا دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
یہ حکم 8 مئی 2026 کو لاہور میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کے بعد جاری کیا گیا جس میں وزیراعلیٰ نے خود PERA کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔
صرف ایک کلک، اور ہر اہم خبر سب سے پہلے آپ کے موبائل پر
ابھی جوائن کریںPERA کیا ہے اور کیوں بنایا گیا؟
PERA یعنی پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کو 2025 کے وسط میں قائم کیا گیا تھا۔ اس ادارے کا مقصد تھا:
- ناجائز قبضوں کے خلاف کارروائی
- قیمتوں پر کنٹرول — خاص طور پر اشیائے خوردونوش کی من مانی قیمتیں روکنا
- پنجاب بھر میں ریگولیٹری قوانین کا نفاذ
- دکانداروں اور ریڑھی بانوں کو سرکاری قوانین کی پابندی پر مجبور کرنا
اس وقت PERA کے فیلڈ فورس میں 8,000 اہلکار ہیں جن میں سے 4,711 عہدے پہلے سے پُر کیے جا چکے ہیں۔ جون 2026 کے آخر تک 7,000 اہلکاروں کی بھرتی مکمل ہونے کی توقع ہے۔
وزیراعلیٰ کا اجلاس — کیا کیا فیصلے ہوئے؟
8 مئی 2026 کو ہونے والے اجلاس میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے درج ذیل اہم فیصلے کیے اور احکامات جاری کیے:
باڈی کیمرے کا حکم
- 30 جون 2026 تک تمام PERA فیلڈ اہلکاروں کو باڈی کیمرے پہنانا لازمی
- 4,000 اہلکاروں کی فوری جانچ شروع کرنے کا حکم
سزا کا اعلان
- بدعنوان اہلکاروں کو تین دن نہیں بلکہ تین سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے
- ہر اہلکار کا ریکارڈ کھنگالا جائے گا — ماضی کا کردار بھی دیکھا جائے گا
- صاف ریکارڈ والے اہلکار بے خوف رہیں، مگر بدعنوان تیار ہو جائیں
انتظامی اصلاحات
- وِسل بلوور سسٹم کو اپ گریڈ کرنے کا حکم
- اندرونی انٹیلی جنس کو مضبوط بنانے کی ہدایت
- ڈیپوٹیشن پر آئے مشکوک کردار کے افسران کو فوری طور پر واپس ان کے محکموں میں بھیجا جائے
احتساب کے اعداد و شمار
- اب تک 1,356 تادیبی انکوائریاں شروع کی جا چکی ہیں
- 304 اہلکاروں کو سزائیں دی جا چکی ہیں
باڈی کیم کیا ہوتی ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے؟
باڈی کیمرہ (Body Camera) ایک چھوٹا، پہننے والا ویڈیو کیمرہ ہے جسے اہلکار اپنی وردی، سینے یا ہیلمٹ پر لگاتے ہیں۔ دنیا بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں یہ شفافیت کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔
باڈی کیم کے فوائد:
- اہلکار اور عوام دونوں کے رویے کا ویڈیو ریکارڈ محفوظ ہوتا ہے
- جھوٹے الزامات سے تحفظ ملتا ہے
- بدعنوانی میں نمایاں کمی آتی ہے
- شکایات کی فوری تحقیقات ممکن ہوتی ہیں
- عوامی اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے
دنیا میں باڈی کیم کا استعمال: امریکہ، برطانیہ، اور کینیڈا سمیت درجنوں ممالک کی پولیس کئی سالوں سے باڈی کیم استعمال کر رہی ہے۔ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ باڈی کیم کے استعمال سے پولیس اہلکاروں کے خلاف شکایات میں 50% سے زیادہ کمی آئی ہے۔
PERA اہلکاروں کی بدعنوانی کی شکایات
PERA بنائی تو عوام کی خدمت کے لیے گئی تھی، لیکن جلد ہی اس کے اہلکاروں کے خلاف شکایات آنا شروع ہو گئیں:
- دکانداروں اور ریڑھی بانوں سے رشوت لینے کی متعدد شکایات
- سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز جن میں PERA اہلکار ریڑھی والوں کو ہراساں اور ذلیل کرتے نظر آئے
- عوام نے PERA کو “مددگار” کے بجائے “ظالم” قرار دینا شروع کر دیا
- قانونی ماہرین نے PERA کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے
انہی شکایات کے پیش نظر وزیراعلیٰ نے براہ راست مداخلت کی اور یہ اجلاس بلایا۔
360 ڈیش بورڈ سسٹم — جدید نگرانی
وزیراعلیٰ نے PERA اہلکاروں کی نگرانی کے لیے مرکزی 360 ڈیش بورڈ سسٹم کے ذریعے سخت مانیٹرنگ کی ہدایت کی ہے۔
یہ سسٹم کیسے کام کرتا ہے؟
- تمام اہلکاروں کی real-time لوکیشن ٹریکنگ
- باڈی کیم فوٹیج کا مرکزی ڈیٹا بیس میں محفوظ ہونا
- خودکار الرٹ سسٹم — کسی غیر معمولی سرگرمی پر فوری اطلاع
- شکایات کا آن لائن اندراج اور ٹریکنگ
یہ جدید ٹیکنالوجی پنجاب حکومت کی ڈیجیٹل گورننس کی طرف بڑھنے کی کوشش کی نشاندہی کرتی ہے۔
PTI کی PERA پر تنقید — اپوزیشن کیا کہتی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) نے PERA کے قیام اور اس کے طریقہ کار پر سنگین اعتراضات اٹھائے ہیں۔ PTI کے رکن صوبائی اسمبلی آفتاب احمد خان نے پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کو خط لکھ کر PERA کا قانونی جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔
PTI کا موقف ہے:
- پنجاب میں پہلے سے ضلعی انتظامیہ، میونسپل کارپوریشنز، ریونیو اتھارٹیز، قیمت کنٹرول میکانزم، مارکیٹ کمیٹیاں اور پولیسنگ ادارے موجود ہیں
- PERA ان اداروں کے ساتھ اختیارات کا تصادم پیدا کر رہی ہے
- PERA ایک متوازی انفورسمنٹ ڈھانچہ بن رہی ہے جو ان اداروں کو مکمل کرنے کے بجائے اوورلیپ کر رہا ہے
- اسمبلی سے قانونی جائزہ لیا جائے
ماہرین کی رائے — کیا یہ اقدام کافی ہے؟
گورننس ماہرین کا کہنا ہے کہ باڈی کیم کا اقدام درست سمت میں ایک قدم ہے، لیکن صرف اسی سے بدعنوانی ختم نہیں ہوگی۔
ماہرین کی تجاویز:
- باڈی کیم کے ساتھ مستقل اور شفاف جوابدہی کا نظام ضروری ہے
- عدالتی نگرانی بھی یقینی بنائی جائے
- اہلکاروں کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ بدعنوانی کم کر سکتا ہے
- شہریوں کی شکایات کا فوری ازالہ نہ ہونے پر اعتماد بحال نہیں ہوگا
PERA 2026 اپڈیٹس — اب تک کیا ہوا؟
| تاریخ | پیشرفت |
|---|---|
| وسط 2025 | PERA کا قیام — قیمت کنٹرول اور ناجائز قبضوں کے خلاف مشن |
| دسمبر 2025 تا اپریل 2026 | اہلکاروں کے خلاف شکایات کا سلسلہ شروع |
| اپریل 2026 | سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل — عوامی غم و غصہ |
| 8 مئی 2026 | وزیراعلیٰ کا جائزہ اجلاس — باڈی کیم حکم اور 30 جون ڈیڈ لائن |
| 30 جون 2026 | باڈی کیم لگانے کی آخری تاریخ (مقررہ) |
| دسمبر 2026 | 7,000 اہلکاروں کی مکمل بھرتی کا ہدف |
عوام پر اثرات — کیا بدلے گا؟
اگر یہ اقدامات عملی طور پر نافذ ہو جائیں تو:
مثبت اثرات:
- ریڑھی بانوں اور دکانداروں کو رشوت اور ہراسانی سے نجات
- بدعنوان اہلکاروں کو جوابدہی کا خوف
- شکایات کا شفاف ازالہ
- PERA میں عوامی اعتماد کی بحالی
ممکنہ چیلنجز:
- باڈی کیم کی تکنیکی دیکھ بھال اور ڈیٹا اسٹوریج کا انتظام
- سسٹم کے غلط استعمال کا خدشہ
- بھرتی شدہ 7,000 اہلکاروں کی تربیت کا مسئلہ
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ)
سوال 1: PERA کیا ہے اور یہ کیوں بنائی گئی؟ PERA
یعنی پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کو 2025 کے وسط میں بنایا گیا تاکہ پنجاب بھر میں ناجائز قبضوں، قیمتوں کے کنٹرول، اور ریگولیٹری قوانین کے نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔
سوال 2: پنجاب وزیراعلیٰ نے PERA اہلکاروں کو باڈی کیم لگانے کا حکم کیوں دیا؟ PERA کے اہلکاروں کے خلاف رشوت خوری، دکانداروں کو ہراساں کرنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی شکایات اور وائرل ویڈیوز کے بعد وزیراعلیٰ مریم نواز نے شفافیت اور جوابدہی کے لیے یہ حکم جاری کیا۔
سوال 3: PERA باڈی کیم لگانے کی ڈیڈ لائن کیا ہے؟ 30 جون 2026 وہ آخری تاریخ ہے جس تک تمام PERA فیلڈ اہلکاروں کو باڈی کیمرے پہنانا لازمی ہوگا۔
سوال 4: بدعنوان PERA اہلکاروں کو کیا سزا ملے گی؟ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ غیر قانونی کارروائیوں میں ملوث اہلکاروں کو صرف تین دن نہیں بلکہ تین سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ ان کا ماضی کا ریکارڈ بھی دیکھا جائے گا۔
سوال 5: 360 ڈیش بورڈ سسٹم کیا ہے؟ یہ ایک مرکزی ڈیجیٹل نگرانی کا نظام ہے جس کے ذریعے PERA اہلکاروں کی real-time ٹریکنگ، باڈی کیم فوٹیج کا ریکارڈ اور شکایات کا انتظام کیا جائے گا۔
سوال 6: کیا PTI نے PERA کی مخالفت کی ہے؟ ہاں، PTI کے رکن صوبائی اسمبلی آفتاب احمد خان نے اسپیکر کو خط لکھا ہے جس میں PERA کا قانونی جائزہ لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ PERA موجودہ انفورسمنٹ اداروں کے ساتھ اختیارات کا تصادم پیدا کر رہی ہے۔
سوال 7: PERA میں کل کتنے اہلکار ہیں؟ PERA کی فیلڈ فورس میں اس وقت 8,000 اہلکاروں کی جگہیں ہیں جن میں سے 4,711 پُر ہو چکی ہیں۔ جون 2026 تک 7,000 اہلکاروں کی بھرتی مکمل ہونے کا ہدف ہے۔
نتیجہ
وزیراعلیٰ مریم نواز کا PERA اہلکاروں کے لیے باڈی کیم کا حکم پنجاب میں گورننس کی بہتری کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ 30 جون 2026 کی ڈیڈ لائن اور بدعنوان اہلکاروں کے لیے تین سال قید کی وارننگ بتاتی ہے کہ حکومت سنجیدہ ہے۔ تاہم اصل امتحان اس وقت ہوگا جب یہ اعلانات زمینی سطح پر نافذ ہوں گے اور عوام کو واقعی ریلیف ملے گا
زوہی خان ایک تجربہ کار، باصلاحیت اور متحرک پیشہ ور ہیں جو طویل عرصے سے سرکاری اسکیمز اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وہ عوام اور حکومتی نظام کے درمیان ایک مضبوط معلوماتی رابطے کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد عام شہری کو ایسی درست، مستند اور بروقت معلومات فراہم کرنا ہے جن کے ذریعے وہ سرکاری اسکیموں، مراعات اور سہولتوں تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں۔
تازہ ترین اپڈیٹس اور نوکریوں کی معلومات کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کریں:
چینل جوائن کریں(نوٹ: آپ کا نمبر کسی کو نظر نہیں آئے گا)